Breaking News
January 28, 2023 - سوِلائزیشن اسکول نارتھ ناظم آباد میں طالبعلم کو اردو زبان بولنے پر سزا ، کمیٹی قائم
January 25, 2023 - بجلی بریک ڈائون کی وجہ سے کراچی شہر کو 64 کروڑ گیلن پانی کمی کا سامنا
January 23, 2023 - آواری گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین بہرام ڈی آواری انتقال کرگئے
January 18, 2023 - جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو مختلف شعبوں میں پی ایچ ڈی پروگرام سے روک دیا گیا
January 18, 2023 - سینئر صحافی مدثر مرزا کی یاد میں تعزیتی اجلاس آج کراچی پریس کلب میں ہوگا
January 18, 2023 - کے فور منصوبے کی تکمیل میں واپڈا سے بھرپور تعاون کرینگے ، ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ
January 18, 2023 - حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا بلند پایہ سیرت و کردار کی مالک تھیں ، مولانا حسن رضا
January 14, 2023 - پارلیمنٹ احاطے میں سوشل میڈیا انفلونسرز، یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز کے داخلے پر پابندی عائد
January 14, 2023 - پاکستان میں پہلی الیکٹرک بس سروس کا آغاز
January 14, 2023 - پاکستان میں 5 ڈجیٹل بینک قائم کرنے کے لیے این او سی جاری
شامی معذور بچے مصطفیٰ النزار کو اٹلی میں مصنوعی اعضاء لگائے جائیں گے

شامی معذور بچے مصطفیٰ النزار کو اٹلی میں مصنوعی اعضاء لگائے جائیں گے

روم ( اے آئی اے ) شامی معذور بچے مصطفیٰ النزار کو اٹلی میں مصنوعی اعضاء لگائے جائیں گے جس کی عمر چھ سال ہے تفصیلات کے مطابق اٹلی کے شہر بلوگنا میں قائم انائل مرکز میں چھ سالہ شامی بچے مصطفیٰ النزار کو مصنوعی اعضاء لگانے کے لیے دنیا کے معروف ڈاکٹر اپنی خدمات پیش کریں گے دونوں ٹانگوں اور ہاتھوں سے پیدائشی معذور بچے کی مدد کے لیے چلائی جانے والی مہم میں ایک لاکھ 29 ہزار ڈالر کے عطیات جمع کئے گئے ہیں بلوگنا میں انائل مرکز کے ڈائریکٹر گریگوریو ٹیٹی کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی پیچیدہ آپریشن ہو گا تاہم ہمارا مقصد مصطفیٰ النزار کو عام بچوں جیسی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرنا ہے کا گریگوریو ٹیٹی کہنا ہے کہ مصطفیٰ کے کندھوں اور دھڑ میں حرکات موجود ہیں جس کی بدولت نئے اعضاء کو کام کرنے کے لیے جسم کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہےاس کے بعد اسے لمبے تربیتی سیشنز کی ضرورت بھی ہوگی اس کے علاوہ جیسے جیسے یہ بچہ بڑا ہوگا اسے ان اعضاء کو تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور ہم اس کی مدد کے لیے چارلاکھ یورو تک امدادی رقم اکٹھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ایشین انفارمیشن ایجنسی ( اے آئی اے ) کو موصولہ معلومات کے مطابق بچے کی پیدائش سے چند ماہ قبل 2016 میں اس کی والدہ شام کے علاقے ادلب میں موجود تھیں جہاں گیس بم گرایا گیا تھا اور یہی حادثہ بچے کی پیدائشی معذوری کا سبب بنا ہے شام میں جاری تنازعات کے سبب بہت سے دیگر خاندانوں کے ہمراہ مصطفیٰ النزار کے والدین نے بھی ترکی میں پناہ لے رکھی ہے مصطفیٰ کے والد جو اپنی ایک ٹانگ شام میں جاری لڑائی کے دوران بم حملے میں کھو چکے ہیں ان کی اپنے بیٹے کے ساتھ تازہ ترین تصویر نے جس میں وہ مصطفیٰ کو ہوا میں اچھال رہے ہیں سوشل میڈیا پر شہرت اختیار کر لی تھی اٹلی کی جانب سے شامی بچے مصطفیٰ النزار کے پورے خاندان کو جس میں اس کی دو چھوٹی بہنیں بھی شامل ہیں انہیں اٹلی میں داخلے کے لیے ویزے مہیا کئے ہیں ان کے خاندان کو وہاں رہنے کے لیے ایک اپارٹمنٹ کی پیشکش بھی کی ہے چھ سالہ شامی معذور بچے مصطفیٰ النزار کے والد نے اٹلی میں میڈیا کو بتایا کہ مصطفی ان تمام مراحل سے گزرنے کے لیےانتہائی خوش ہے اس نے کہا ہے کہ وہ آخر کار چلنے پھرنے اور خود سکول جانے کے قابل ہو جائے گا اور اس کے مصنوعی بازو لگ جائیں گے تو اپنے والد کو گلے لگانے کے قابل بھی ہو جائے گا

About author