سامعہ حسن نے تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر کا حلف اٹھا لیا

سامعہ حسن نے تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر کا حلف اٹھا لیا

دارالاسلام ( اے آئی اے ) سامعہ حسن نے تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر کا حلف اٹھا لیا تفصیلات کے مطابق تنزانیہ کے صدر جون ماغوفولی کی اچانک موت کے بعد ملک کی مسلم نائب صدر سامعہ حسن نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے تنزانیہ کے آئین کے مطابق صدر کی موت کے بعد صدارت کی بقیہ مدت نائب صدر کو پوری کرنا ہوتی ہے صدر جون ماغوفولی طبیعت کی ناسازی کے باعث انتقال کرگئے تھے جس کے بعد نائب صدر سامعہ حسن ملک کی پہلی خاتون صدر بن گئیں ہیں صدر جون گزشتہ برس اکتوبر میں دوسری بار صدر منتخب ہوئے تھے یعنی نائب سامعہ حسن 2025 تک ملک کی صدر رہیں گی تنزانیہ میں اسلام مسیحیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہے اس ملک میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کوئی خاتون صدر کے عہدے پر براجمان ہوئی ہیں سامعہ حسن نے جب جمعے کو بطور صدر حلف اٹھایا تو ان کے سر پر اسکارف اور ایک ہاتھ میں قرآن تھا تقریب حلف برداری کا انعقاد ملک کے سب سے بڑے شہر دارالسلام میں واقع اسٹیٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا اس تقریب میں پارلیمانی اراکین کے ساتھ ساتھ سابق صدور بھی شریک ہوئے 61 سالہ صدر سامیہ مانچسٹر یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں سامعہ حسن تنزانیہ کے نیم خودمختار علاقے زنجبار میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم بھی وہاں سے ہی حاصل کی یہ وہ دور تھا ، جب تنزانیہ میں لڑکیوں کی تعلیم کی شدید مخالفت کی جاتی تھی اور بہت ہی کم والدین اپنی بیٹیوں کو سکول بھیجتے تھے سامعہ حسن نے سن انیس سو ستتر میں سکینڈری سکول کے بعد سٹیٹیسٹکس کی تعلیم حاصل کی اور وزارت ترقی و منصوبہ بندی میں ملازمت اختیار کر لی وہ انیس سو بانوے میں ورلڈ فوڈ پروگرام پروجیکیٹ میں شامل ہوئیں اور بعد ازاں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے اکنامکس میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ حاصل کیا سامعہ حسن مشرقی افریقی خطے میں اس عہدے تک پہنچنے والی دوسری خاتون ہیں

About author