شہر کی ایک شاہراہ کو سید ابن حسن کے نام سے موسوم کیا جائے

شہر کی ایک شاہراہ کو سید ابن حسن کے نام سے موسوم کیا جائے

کراچی ( اے آئی اے ) آرٹس کونسل کراچی میں سید ابن حسن کی یاد میں تعزیتی ریفرنس تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل گلرنگ میں سید ابن حسن نقوی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دی آرٹس فورم کے سینئر رہنما محمد اسلم نے کہا ہے کہ ابن حسن تمام تمام حلقوں میں یکساں مقبول تھے ، یہ انہی کا خاصہ تھا کوئی ان سے ناراض نہیں ہوتا تھا ان کی دلکش مسکراہٹ سخت سے سخت دل کو بھی موم کردیا کرتی تھی مبشر میر نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید ابن حسن کی یاد بھلائے نہیں بھولتی ہے وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ وہ صرف بینکر ہی نہیں صحافی بھی تھے صحافی انہیں اپنی برادری کا فرد تصور کرتے تھے کیونکہ پریس کلب ہو یا دیگر صحافتی تنظیمیں وہ سب کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے تعزیتی ریفرنس میں مرحوم کے برادر نسبتی سید نازش حسن رضوی کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جبکہ سید نسیم شاہ ، منظر نقوی ، اویس ادیب انصاری ، سید باسط علی ، زیڈ ایچ خرم ، نعیم طاہر ، سید تحسیم الحق حقی ، ہما میر ، سبطین نقوی اور بشیر سدوزئی نے بھی خطاب کیا اور مظہر امراؤ بندو خان نے تلاوت کلام کی قرأت نے محفل کو بابرکت بنادیا تقریب میں آرٹس کونسل کے سینئر اراکین شکیل خان، ڈاکٹر ایوب شیخ اور اسجد بخاری نے بھی شرکت کی سید عبدالباسط نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ ابن حسن کی خوبی یہ تھی کہ وہ صرف یاروں کے یار نہیں تھے بلکہ ان کی دوستی سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی مستفید ہوتے تھے سید سبطین نقوی نے اس موقع پر قرارداد پیش کی کہ شہر کی ایک شاہراہ کو ان کے نام سے موسوم اور انہیں بعد از مرگ قومی سطح پر کسی بڑے سرکاری اعزاز سے نوازا جائے سید نسیم شاہ نے کہا کہ ان کے دوست تو ہزاروں کی تعداد میں ہونگے مگر شاید ان کا کوئی دشمن یا نفرت کرنے والا کوئی دور تک نہ ملے اویس ادیب انصاری نے کہا کہ وہ ہمیشہ دوسرے لوگوں کو آگے بڑھا کر خوش ہوتے تھے کبھی عہدہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی آرٹس کونسل کے گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات کیلئے انہیں زبردستی تیار کیا گیا تھا مگر موت نے انہیں مہلت نہ دی

About author