کراچی سرکلر ریلوے 2 ماہ میں آزمائشی طور پر چلانے کا فیصلہ

کراچی سرکلر ریلوے 2 ماہ میں آزمائشی طور پر چلانے کا فیصلہ

کراچی ( ے آئی اے ) کراچی سرکلر ریلوے 2 ماہ میں آزمائشی طور پر چلانے کا فیصل تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ اور وفاقی حکومت نے آئندہ دو ماہ کے دوران 12 کلومیٹر طویل مقامی ٹرینوں کو آزمائشی طورپر چلانے اور پھر اگلے مرحلے میں اسے سرکلر ریلوے نظام کے ساتھ منسلک کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر کے مابین ہونے والے اجلاس میں کیا گیا دونوں نے اپنی متعلقہ ٹیموں کے ساتھ ہر ممکن تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا۔ اجلاس کراچی میں مقامی ٹرین منصوبہ شروع کرنے کے لیے منعقد کیا گیا وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ نے 2006 میں کے سی آر کی بحالی کے لئے ابتدائی پی سی ون کی منظوری جے آئی سی اے کے ذریعہ انجام دی تھی اور اس میں ترمیم شدہ فزیبلٹی اور پی سی 1 جے ای سی اے نے تیار کیا تھا جسے ای سی این ای سی نے 2012 میں 2.6 بلین ڈالر کی لاگت کے ساتھ منظور کیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ ای سی این ای سی نے 6 اکتوبر 2017 کو 207.6 ارب روپے چائنیز قرضہ اور مینجمنٹ کی منظوری کے بعد اس منصوبے کی منظوری دی۔ سندھ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ نے 8 نومبر 2017 کو انتظامیہ کی جانب منظوری کے احکامات جاری کیے تھے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب کے سی آر کو سی پیک فریم ورک میں شامل کیاگیا تو اسے 300 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا اور اس کو 36 ماہ کے اندر اندر مکمل کیا جانا چاہئے تھا وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کے سی آر منصوبے کو جلد سے جلد شروع کرنے کے لئے وفاقی حکومت سنجیدہ ہے وفاقی وزیر اور وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ اگلے چند ماہ کے دوران لوکل ٹرینوں کو کیسے شروع کیا جائے اور کیا کے سی آر کے جدید ریلوے سسٹم کے ساتھ لوکل ٹرین کا نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ 12 کلو میٹر کے فاصلے پر لوکل ٹرینوں کو سٹی اسٹیشن سے سائٹ آئندہ دو مہینے میں آزمائشی طور پر چلایا جائے گا

About author