پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( پی آئی سی ) پر دھاوا ، 250 وکلا کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( پی آئی سی ) پر دھاوا ، 250 وکلا کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج

لاہور ( اے آئی اے ) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( پی آئی سی ) پر دھاوا ، 250 وکلا کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج تفصیلات کے مطابق پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( پی آئی سی ) میں مبینہ طور پر ڈاکٹروں اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنانے ، ہسپتال کی املاک اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر 250 سے زائد وکلا کے خلاف 2 ایف آئی آر درج کرلی گئی ہیں ذرائح کے مطابق گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں 52 وکلا کو گرفتار کیا گیا تھا گزشتہ روز پہلی ابتدائی اطلاعی رپورٹ ( ایف آئی آر ) پی آئی سی کی شکایت پر شادمان پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی جس میں لاہور بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ملک مسعود کھوکر ، لاہور بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اعجاز بسرا اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدارتی امیدوار رانا انتظار کو وکلا کی قیادت کرنے ، انہیں اشتعال دلانے اور ہدایات دینے پر نامزد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے سمیت جو بھی ان کی راہ میں آئے بچ کر نہیں جاسکے ، ایف آئی آر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے ثاقب شفیع شیخ کی شکایت پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 322( قتل و غارت گری ) ، 452 ( زخمی کرنے ، حملے یا حبس بے جا کے لیے تیاریوں کے بعد کسی جگہ بے جا مداخلت کرنے ) ،352 ( سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے منتشر کرنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ قوت کا استعمال ) ، 186، 354 (کسی خاتون کی بے حرمتی کے ارادے سے اس پر حملہ کرنا) ، 148 ( فسادات ، مہلک ہتھیاروں سے لیس ہونا)، ،149 ( غیرقانونی عمل) 337-ایچ ( 2 ) ( غفلت کے نتیجے میں زخمی کرنے پر سزا ) اور 395 ( ڈکیتی کی سزا ) کے تحت درج کی گئی ہے ایف آئی آر کے مطابق کئی گروہوں میں تقسیم وکلا انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو)، آپریشن تھیٹر اور ریڈیالوجی سمیت پی آئی سی کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں داخل ہوئے تھے جہاں انہوں نے سیکیورٹی گارڈز، طبے عملے اور ڈاکٹروں کو زد و کوب کیا اس میں مزید کہا گیا کہ وکلا نے ہسپتال کے قیمتی آلات بھی توڑے جس سے ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ میں خوف و ہراس پیدا ہوا ، ایف آئی آر کے مطابق ہسپتال میں تباہی کے نتیجے میں مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات معطل ہوگئی جو 3 مریضوں کی اموات کا باعث بنی ، اس میں مزید بتایا گیا کہ پارکنگ لاٹ میں موجود ڈاکٹروں کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ، ایف آئی آر کے مطابق وکلا کی جانب سے ہسپتال میں تعینات 2 سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی حالت سنگین ہونے کے بعد علاج کے لیے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ،اس میں مزید کہا گیا وکلا کے ایک گروہ نے نرسز ہسپتال میں داخل ہو کر وہاں بھی توڑ پھوڑ کی ، وکلا نے عملے کو ہراساں کیا ، نرسز ہسپتال کی انچارج کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان کے گلے میں پہنا ہوا لاکٹ چھین لیا تھا ، ایف آئی آر کے مطابق صورتحال بے قابو ہونے پر پولیس کی مزید نفری پی آئی سی پہنچی اور جب انہوں نے وکلا کو ہسپتال سے باہرنکالنا چاپا تو ان میں سے کچھ نے فائرنگ شروع کردی ، اس میں مزید بتایا گیا کہ واقعہ تقریبا 2 گھنٹے تک جاری رہا جبکہ زخمیوں اور آلات کو نقصان پہنچنے سے متعلق معلومات بعد میں دی جائیں گی دوسری ایف آئی آر مذ کورہ معاملے پر دوسری ابتدائی اطلاعی رپورٹ پولیس کی جانب سے درج کی گئی ہے اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں ، شکایت کنندہ انسپکٹر سید انتخاب حسین کے مطابق پستول اور ڈنڈوں سے لیس وکلا ان کی پولیس گاڑی کے پاس آئے اور انہیں جان سے ماردینے کی نیت سے ان پر فائرنگ کی انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھے اور فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اس دوران ان کی گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھ گئی اور وکلا نے گاڑی کو گھیرلیا اور اسے نقصان پہنچانا شروع کردیا۔ شکایت کنندہ انسپکٹر نے کہا کہ مظاہرین میں سے ایک نے کہا کہ پولیس کی گاڑی کو آگ لگادو اور پولیس عہدیداران کو جان سے مار ڈالو ان کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ اور اسے آگ لگائی گذ شتہ روز انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 290(عوام کو تکلیف پہنچانے)، 291 (حکم کے باجود پریشانی کا باعث بنے رہنے )، 148 (فسادات، مسلح ہتھیار سے لیس ہونے)، 353 (حملہ)، 324(اقدام قتل)، 436 ( گھر وغیرہ تباہ کرنے کے مقصد سے آگ یا دھماکا خیز مواد کا استعمال) اور 186 (سرکاری ملازم کے عوامی کاموں میں رکاوٹ بننے) کے تحت وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے موصولہ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل کچھ وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی میں ایک وکیل کی والدہ کے ٹیسٹ کے لیئے گئے ، جہاں مبینہ طور پر وکلا اور ہسپتال کے عملے دوران تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور مبینہ طور پر وہاں موجود وکلا پر تشدد کیا گیا مذ کورہ واقعے کے بعد دونوں فریقین یعنی وکلا اور ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک دوسرے پر مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم بعد ازاں ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا س مقدمے کے اندراج کے بعد وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کریں ، تاہم پہلے ان دفعات کو شامل کیا گیا بعد ازاں انہیں ختم کردیا گیا جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں مذکورہ واقعے پر معافی مانگ لی گئی اور معاملہ تھم گیا تاہم گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک ڈاکٹر کو اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس میں مبینہ طور پر وکلا کا ‘مذاق’ اڑایا گیا تھا، جس پر وکلا نے مذاق اڑانے والے ڈاکٹر کے خلاف مہم شروع کردی اس معاملے پر بدھ کو ایوان عدل میں لاہور بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں مزید کارروائی کے لیے معاملے کو جمعرات تک ملتوی کردیا گیا ، تاہم کچھ وکلا نے بدھ کو ہی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پی آئی سی کا رخ کیا اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( پی آئی سی ) پر دھاوا بول دیا

About author